Pak Mdeena

Islamic history Islamic teaching and all about Islam. All information about Islam provided here like Hades e pak, Islamic taleemat, Islamic history, Islamic quet. Life of Muhammad P.B.U.H and other Messenger of Allah

Widget Recent Post No.

LightBlog

Breaking

Thursday, 14 May 2020

May 14, 2020
Lesson 5

THE PSYCHODYNAMIC APPROACH/ MODEL

The approach that concentrated on the unconscious forces that drive our behavior; belief that the inner
forces over which individuals have little control motivate behavior.
• Founded by Sigmund Freud, the most influential figure in the history of psychology.
• The basis of motivation and behavior lies in inner forces; forces that are predetermined, and forces
over which humans have little control, which the person is not aware of i.e., unconscious
determinants of behavior
• It maintained that instincts are the driving force behind individual’s personality; there are life instincts
as well as death instincts that play a role in human life.
Significance of Psychodynamic Approach
• The most influential theory of the 20th century, that affected psychology and related disciplines
in a revolutionary manner
• Gave an entirely new perspective to the understanding of behavior and mental processes as
well as mental illness
• The first theory to raise the awareness that not all behavior is rational
• Gave an impressive, broad based, therapeutic approach
• Provided a basis to understand everyday life phenomena e.g. interpersonal relationships,
aggression, prejudice
• Many other, later, approaches built their paradigms on this approach - some by refining it,
some by deviating from it
• One of the main ideas is that there is an inner tension for the fulfillment of instincts, the
tension leads to action for fulfillment, the fulfillment leads to reduced tension.

Monday, 27 January 2020

January 27, 2020

Makkah Best or Medina



میں نے پوچھا: بابا جی یہ تو بتائیں کہ مکّہ زیادہ افضل ہے یا مدینہ؟ بابا جی نے کہا: پُتّر اپنا بٹوہ نکال۔ میں نے اپنا بٹوہ نِکالا اور بابا جی کے سامنے رکھ دیا۔ بابا جی نے میرے بٹوے کی طرف دیکھا اور کہا: پُتّر فرض کر لے کہ تیرے اس بٹوے کی قیمت پانچ روپیہ ہے۔ اس میں اگر تو ایک لاکھ روپیہ کا ہیرا جڑ دے تو پِھر اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور بجائے پانچ روپے کے ایک لاکھ ہو جائے گی۔ اور پھر اگر بٹوے کے اندر پانچ پانچ ہزار کے بیس نوٹ رکھ لے تو تیرے بٹوے کی مالیت ایک لاکھ سے بڑھ کے دو لاکھ ہو جائے گی۔ پُتّر یاد رکھ ۔۔۔ اللّہ تعالیٰ کے خزانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وجود حضور سرورِ عالم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر زمین پر ہوں تو زمین آسمان سے افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم آسمان پر ہوں تو آسمان زمین سے افضل۔اسی اصول کی بِناء پر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر مکّہ میں ہوں تو مدینہ سے مکّہ افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ہوں تو مدینہ مکّہ سے افضل۔فضیلت کا موجب حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا وجودِ باجود ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ میں تھے تو خدائے تعالیٰ نے مکّہ معظمہ کی قسم یاد فرمائی اور فرمایا: لَآ اُقْسِمُ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اس شہر ( مکّہ ) کی قسم ہے۔ (سورۃ البلد،آیت:۱ ) کیوں؟ کیا اس لیے کہ اُس میں اُس کا گھر ( کعبہ ) ہے؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اس میں صفا مروہ کی پہاڑیاں ہیں؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اُس میں چاہ زم زم ہے؟ نہیں! تو پِھر خدا نے اس شہر کی قسم کیوں یاد فرمائی؟ اللّہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاَنْتَ حِلٌّ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اے محبوب! تم اس میں تشریف فرما ہو۔ ( سورۃ البلد،آیت:۲۲

Saturday, 25 January 2020

January 25, 2020

Hum Bhi Mar Sakty Hay


ہمیں مرے ہوئے تین چار منٹ ہی ہو چکے تھے لیکن ہمیں یقین
 نہیں آ رہا تھا کہ ہم بھی کبهی مر سکتے ہیں! میرے ساتھ والی قبر میں ایک اسمارٹ خوبصورت مردہ تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم نے کبھی سگریٹ پیا‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ کبهی ’’ شراب‘ چرس‘ گانجا‘‘ اس کا سر انکار میں ہلتا رہا- کبھی رش ڈرائیونگ کی ‘ پانی میں اندھی چھلانگ لگائی‘ تم سڑک پر پیدل چلتے رہے ہو یا تم لوگوں سے الجھ پڑتے ہو‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ میں نے پوچھا ’’ تمہاری عمر کتنی تھی‘‘ اس نے جواب دیا ’’ صرف 32 سال‘-’’ پھر تم کیسے مر گئے‘‘ اس نے کہا که میں بھی اس بات پر حیران ہوں، میں کیسے مر سکتا ہوں‘‘ اس نے چیخ کر جواب دیا ’’ میں اپنے لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا‘ مجھے اچانک سینے میں درد محسوس ہوا۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا‘ دُہرا ہوا اور اس کے بعد سیدھا نہیں ہو سکا‘ میں مر گیا‘‘۔ میں نے پوچھا ’’ تمہاری اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’ پانچ منٹ کی زندگی!! میں صرف تین منٹ کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں. میرے ابو مجھ سے ناراض تھے، میں اپنی بیوی سے بدتمیزی کرتا تھا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا، میں ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتا تھا اور میں نے اپنے لان میں گلاب کے پھول لگوائے تھے لیکن میں ان کے پاس نہ بیٹھ سکا. میں نے ہمیشہ اپنے جسم کو اللّه تعالیٰ کی کبریائی سے مقدم رکھا. میں تین منٹ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور میں اپنے گلابوں کو چھو کر دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ ہم سب سناٹے میں تهے که اگلی قبر میں سے ایگزیکٹوقسم_کاسیریس_مردہ تھا. اس کے چہرے پر کامیاب بزنس مین کا اعتماد تھا. میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے؟‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں. میں دنیا کے بہترین ڈاکٹر، اعلیٰ ترین اسپتال اور مہنگی ترین دوائیں افورڈ کر سکتا تھا. میں نے دنیا کی مہلک ترین بیماریوں کی ویکسین لگوا رکھی تھی. میں امریکا اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں سے ہر چار ماہ بعد اپنے ٹیسٹ کرواتا تھا۔ ہفتے میں دو بار اسٹیم باتھ لیتا تھا، میں ڈائیٹ چارٹ کے مطابق خوراک کھاتا تھا. ہر ہفتے فل باڈی مساج کرواتا تھا. میں کام کا سٹریس بھی نہیں لیتا تھا. میں نے ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی جہاز میں سفر کیا‘ میرے پاس پانچ ہزار لوگ ملازم تھے. یہ لوگ میرا سارا سٹریس اٹھا لیتے تھے اور میں صرف عیش کرتا تھا مگر پھر مجھے کھانسی آئی‘ میں نیچے جھکا‘ فرش پر گرا اور مر گیا اور میں پچھلے تین منٹ سے یہ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں نے تو کبھی مرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘ اس نے تڑپ کر جواب دیا ’’بس دو تین منٹ کی زندگی‘ میں واپس جا کر اپنی ساری دولت کسی مدرسہ یا ویلفیئر کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس سے بڑا اسلامک ادارہ یا فری میڈیکل کالج‘ ملک کا سب سے بڑا تھیلیسیمیا اسپتال یا پھر ملک کی سب سے بڑی سائنس یونیورسٹی بنانے کا حکم دوں گا اور پھر واپس آ جاؤنگا۔ ابھی اس کی بات جاری تھی تیسرامردہ بول پڑا‘ یہ مردہ چال ڈھال اور شکل شباہت سے سیاستدان دکھائی دیتا تھا‘ اس کے چہرے پر مکاری موجود تھی. میں نے پوچھا ’صاحب آپ بھی فوت ہو گئے‘‘ وہ دکھ میں ڈوبی آواز میں بولا ’’ ہاں اور میں اسی بات پر حیران ہوں‘ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں تو وہ شخص تھا جس کے ایک نعرے پر لوگ جان دیتے تھے‘ میری گرفتاری‘ میری قید پر میرے ورکر خود سوزی کر لیتے تھے‘ لوگ مجھ سے ٹکٹ لینے کے لیے گیارہ ہزار وولٹ کے کھمبے پر چڑھ جاتے تھے۔ میرے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے تھے اور میں اس وقت تک کوئی چیز کھاتا تھا اور نہ ہی پیتا تھا میرے ڈاکٹر جب تک اس کی تصدیق نہیں کر دیتے تھے. میں ہمیشہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے رہا اور میں تقریر بھی بلٹ پروف کیبن میں کھڑے ہو کر کرتا تھا‘ میں ہر مہینے عمرے کے لیے جاتا تھا اور ہر دوسرے دن دو لاکھ روپے خیرات کرتا تھا مگر آج اچانک میرے سر میں درد ہوا‘ میں نے کنپٹی دبائی‘ میرے دماغ میں ایک ٹیس سی اٹھی‘ میں نے چیخ ماری اور مر گیا۔ میں نے اس سے بھی پوچھا ’’ آپ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ صرف دو منٹ کی زندگی‘ میں اس دنیا کے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں‘ آپ موت سے نہیں بچ سکتے چنانچہ عوام اور اپنے درمیان سے بلٹ پروف شیشے ہٹا دیں‘ خدمت اور تبدیلی وہی ہے جو آپ آج لے آئے‘ اگر آج کی ٹرین مس کر دی تو دوبارہ نہیں پکڑ سکیں گے‘ آپ خادم ہیں تو خدمت کریں نعرے نہ لگائیں‘‘ ابھی اس کی بات جاری تھی کہ مولوی صاحب کا مردہ سیدھا ہو گیا۔ ان کے ماتھے پر زہد اور تقویٰ کا محراب تھا‘ گردن عجز اور انکساری کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی‘ میں نے انھیں پوچھا ’’ حضور آپ بھی مر چکے ہیں‘‘ مولوی صاحب بولے ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں نے زندگی میں سیکڑوں جنازے پڑھائے‘ اپنی ہر تقریر میں موت‘ میدان حشر اور حساب کا ذکرکیا لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا میں نہیں مروں گا‘ الله تعالیٰ مجھے بہت عمر دے گا اور میں جب تک موت کے فرشتے کو اجازت نہیں دوں گا یہ میرے بستر کے قریب نہیں پھٹکے گا مگر ہوا اس سے الٹ, میں مسجد میں نماز سے فارغ ہوا ابھی مسجد سے نکلنے بھی نہ پایا کہ روح جسم سے پرواز کرگئی مجھے بھی اب صرف تین منٹ چاہئیں۔ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اللّه تعالیٰ ،کتاب الله اور رسول ﷺ کی طریقوں کو اپنانا چاہئے اللّٰه سے اپنی غلطیوں‘ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو‘ قرآن کریم پڑھو اور رسول ﷺ کی ہر ایک سنت سے اپنی زندگی سنوارتے جاؤ ۔۔۔ [(تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کی ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائے تو پھر نماز پڑھوں گا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا ...جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہو جائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوں گے

Thursday, 23 January 2020

January 23, 2020

جادو جنات اور تعویزات وغیرہ کی تشخیص کا قرآنی طریقہ

جادو جنات اور تعویزات وغیرہ کی تشخیص کا قرآنی طریقہ 


 عموماً آج کل فرائض دین سے دوری کی وجہ سے عامة الناس پر جادو وغیرہ کے اثرات ہوجاتے ہیں جن کی تشخیص کا سہی طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے عموماً حضرات کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تشخیص کے نام پر بھولی بھولی عوام سے ہزاروں روپے بٹور لیے جاتے ہیں ۔ فقیر غلام نبی نوری کی جانب سے ایک آزمودہ قرآنی نسخہ جو بہت سارے عاملین و اولیاء اکرام کا معمول رہا ہے پیش خدمت ہے ان شاء اللہ عزوجل اس نسخہ سے آپ خود تشخیص کرسکتے ہیں کہ اپ پر جادو جنات وغیرہ کے اثرات ہیں یا نہیں اور اس طریقہ میں کسی سے اجازت لینے کی ہرگز ضرورت نہیں ہر عام و خاص بلااجازت اس سے استفادہ حاصل کرسکتا ہے فقیر مدینہ غلام نبی نوری کی جانب سے تشخیص کے متلعقہ نسخہ حاضر خدمت ہے ان شاء اللہ جادو جنات وغیرہ کے علاج پر بھی جلد مختلف علاج پیش خدمت ہوں گے طریقہ ۔۔ باوضو ہوکر آدھا گلاس بالکل شفاف اور پاکیزہ پانی لیں جس میں کسی طرح کی بدبو یا خوشبو نہ ہو گیارہ مرتبہ درود ابراھیمی درود پاک تین بار سورہ فاتحہ تین بار آیت الکرسی تین بار سورہ فیل چاروں قلُ چار چار بار پھر گیارہ بار درود ابراھیمی پڑھ کر پانی پر دم کریں اور مریض کو پانی پلا دیں جب پانی کا آخری گھونٹ رہ جائے تب مریض کو کہیں کہ آخری گھونٹ منہ میں ڈال کر کُلی کرے اور واپس گلاس میں ڈال دیں پھر اس پانی کو سونگھ کر دیکھیں اگر تو کسی مری ہوئی چیز جیسی بدبو آئے تو سفلی جادو وغیرہ کے اثرات ہیں اگر پھیکی سی خوشبو آئے تو جناتی معاملات درپیش ہیں اگر تیز خوشبو آئے کسی بھی طرح کی تو تعویزات کے اثرات ہیں اور اگر کوئی خوشبو یا بدبو نہ آئے تو کسی قسم کا روحانی مسلہ درپیش نہیں جسمانی مسائل ہوسکتے ہیں یہ طریقہ مجرب المجرب ہے ہر عام و خاص اس سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے ان شاء اللہ جلد ہی اپ کی خدمت میں جادو جنات وغیرہ کے اثرات ضائع کرنے کا طریقے بھی پیش خدمت ہوں گے دعاوں میں یاد رکھیے گا

Tuesday, 21 January 2020

January 21, 2020

Hadees e Nabwi


:حضرت محمد ﷺ کا ارشاد پاک ہے

اچھی بات کہنا خاموش رہنے سے بہتر ہےاور خاموش رہنا بری بات کہنے سے بہتر ہے
January 21, 2020

Muhammad

Muhammad

محمد صلی  اللہ علییہ وآلہ  وسلم ہمارے لیے زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ تھے۔
 آپ صلی  اللہ علییہ وآلہ  وسلم نے کبھی کسی کو کوئی دکھ نہیں پہنچایا۔
آپ صلی  اللہ علییہ وآلہ  وسلم ساری دنیا کےلئے رحمت اللعالمین بن کر آئے۔
آپ صلی  اللہ علییہ وآلہ  وسلم اللہ کے آخری نبی بن کر آئے اب آپ صلی  اللہ علییہ وآلہ  وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔
مجھے یس بات پر فخر ہے کہ میں حضرت محمد ﷺ کا ادنی سا امتی ہو۔
دعا ہے کہ مولا کریم ہم سب کو نبی اکرم ﷺکی سچی سچی محبت نصیب فرمائے۔
آمین

Wednesday, 15 January 2020

January 15, 2020

یہ ہے شریعت

یہ ہےشریعت

والدہ نے سات دن دودھ پِلایا، آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا، ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی، یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی، یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا، مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے، ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے، ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے، مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کے لیے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے، یہ ہے شریعت۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں، یہ ملاقات کے لیے آئیں، دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں، میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے، وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں، اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا، غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں، یہ بھی ذہن میں رہے، حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں، فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی، ماں کے بارے میں پوچھا، بتایا گیا، وہ انتقال فرما چکی ہیں، رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے، رضاعی خالہ کو لباس، سواری اور ایک سو درہم عنایت کیے، رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی، پتہ چلا تو انھیں بلایا، اپنی چادر بچھا کر بٹھایا، اپنے ہاں قیام کی دعوت دی، حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی، رضاعی بہن کو غلام، لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا، یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں، یہ ہے شریعت۔

جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے، ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے، لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا، حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے، کافروں کا ایک شاعر تھا، سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا، یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا، سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا، حضرت عمرؓ نے تجویز دی، میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا، تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا ’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں، میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا، یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے، سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا، یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت۔

غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجیے‘ عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا، ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا، اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی، کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انھیں خطرہ تھا، مسلمان ان پر تیر برسا دیں گے، کفار نے اپنا سفیر بھجوایا، سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی، رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں، ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے، یہ ہمارے لیے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی، خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے، تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کے لیے جگانے کی ذمے داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی، حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی، سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی، رسول اللہ  نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ جس ذات نے آپؐ کو سلایا، اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘ تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی، آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سفر کر رہے تھے، کفار جنگ بدر کے لیے مکہ سے نکلے، کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا، آپ سے پوچھا گیا، آپ کہاں جا رہے ہیں، حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو، آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا، یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی، جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہ ؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تو مدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا، رسول اللہ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انھیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انھیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘ یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا، یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا۔

ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا، آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا، حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا، یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انھوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’آج لڑائی کا دن ہے، آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے، ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا، ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں، رحمت اور معاف کرنے کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا، مدینہ سے رقم جمع کی، خوراک اور کپڑے اکٹھے کیے اور یہ سامان مکہ بھجوا دیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے، آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا، رسول اللہ  مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔

ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ  کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا، اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اس نے انکار کر دیا، یہ تین دن قید میں رہا، اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی، یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا، اس نے راستے میں غسل کیا، نیا لباس پہنا، واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے، رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں، یہ کافر تھے، یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے، مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا، یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی، صاحبزادی مشورے کے لیے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ  نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرو مگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کے لیے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘ مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا ’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کر دو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا، آپ ملاحظہ کیجیے، حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کے لیے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ  نے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا، یہ ہے شریعت۔

حضرت عائشہ ؓنے ایک دن رسول اللہ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا، وہ دن جب میں طائف گیا اور عبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے، میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا، عبدیالیل طائف کا سردار تھا، اس نے رسول اللہ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا، اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں، یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا، عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا، رسول اللہ  نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا، رسول اللہ  ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے، اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے۔

عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا، یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کے لیے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا، میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہوسکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کے لیے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں، آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت۔

ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا، آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں، آپ لوگوں کے لیے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے چھٹ جاتے

Sunday, 12 January 2020

January 12, 2020

سورہ قریش کی طاقت اورتاثیر

سورہ قریش کی طاقت اورتاثیر
مجھے کہنے لگا کہ میں نے سورہ قریش کوپڑھا، سورہ قریش کامیرا تجربہ ہے راستے سمیٹ جاتے ہیں، فاصلے سمٹ جاتے ہیں اوریہ سچ ہے۔ 1100کلومیٹرکافاصلہ ہے لگتاہے میں نے 100کلومیٹرکیاہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ کیاہے یہ اس کی اَن دیکھی تاثیرہے۔ اس کااَن دیکھا وجود ہے جو نظرنہیں آتا۔ سورہ قریش کھاناکھانے کے بعدپڑھنے سے پیٹ کم ہوجاتاہے۔ پیٹ اندرچلاجاتاہے اورانسان وقت سے پہلے بوڑھا نہیں ہوتا اورعمرکم نظرآتی ہے۔ سورہ قریش کوپڑھنے والا کو گیس، بادی تبخیرنہیں ہوتی۔ سورہ قریش پڑھنے والاکو کھانا زہرنہیں بنتا۔
سورہ قریش پڑھنے والے کو کھانے کے بعدگیس، مستقل مسائل، کولیسٹرول، یورک ایسڈنہیں بنتا۔ سورہ قریش پڑھنے والے کو کھانے کے بعد وہ کھانا عبدیت، صالحیت کا، صلاحیت کاذریعہ بنتاہے۔ سورہ قریش کھانے کے بعدپڑھنے والے کو وہ کھانا شفاء بن کرلگتاہے، دوابن کرلگتاہے، بیماری بن کرنہیں لگتا۔ سورہ قریش کھانے کے بعدپڑھنے والے کو اللہ پالتاہے، اللہ دسترخوان وسیع دیتاہے۔ اللہ اس کی نسلوں کوپالتاہے۔ اللہ اس کی نسلوں کوبھکاری نہیں بناتا، منگتانہیں بناتا۔
 کتنے مالدارگھرانے تھے، جوبھکاری بن گئے، فقیربن گئے۔ سورہ قریش کھانے کے بعدپڑھنے والی کی سات نسلوں کو پالتا ہے اورپال کردیکھاتا ہے۔ کھانے کے بعدصرف تین بارسورہ قریش پڑھنے کے یہ کمالات، تاثیراورنفع بتائے ہیں۔ کچھ قوتیں اورطاقتیں ہیں جو ہمیں متاثرکررہی وہ دعاؤں کی شکل میں بھی ہیں وہ بددعاؤں کی شکل میں  ہیں۔ وہ خیروں کی شکل میں بھی ہیں وہ شرکی شکل میں بھی ہیں۔
January 12, 2020

کفریہ کلمات سے بچیں

*یہ ﮐﭽﮫ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﮐﻠﻤﺎﺕ ہیں*
*ان سے بچیں اوردوسروں کو بھی بچائیں :*

🔮1 ۔ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ یہ کہنا کفر ہے۔ "الله ﻧﮯ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮔﮭﺮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ "
🔮2 ۔ ﯾﺎ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ یہ کلمہ کہناکفر ہے " ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ الله ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ " ۔
🔮3 ۔ یہ کہنا بھی کفر ہے " ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ الله ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺿَﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ "
🔮4 ۔ "ﯾﺎالله ! ﺗﺠﮭﮯ ﺑﭽّﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ"
🔮5 ۔ " الله ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎﺑِﮕﺎﮌﺍ ﮨﮯ ! ﺁﺧِﺮ ﻣﻠﮏُ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﮐﻮﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ"
🔮6 ۔ "ﺍﭼّﮭﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﻨَّﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟﮔﮯ فلمی اداکارائیں ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﻣﺰﮦ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
🔮7 ۔ ﺍیسے لطائف لکھنا بھی کفر ہیں " ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﻨّﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ‏جہنم ہی میںﺁﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ"
🔮8 ۔ ﺁﺅ ﻇﮩﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯿﮟ ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﯾﺎ ﺭ ! ﺁﺝ ﺗﻮ ﭼُﮭﭩّﯽ ﮐﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ ، ﻧَﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﭼُﮭﭩّﯽ ﮨﮯ ۔
🔮9 ۔ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ '': ﺑﺲ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﺎ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﻭﯾﺰﮦ ﺗﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ۔"
🔮10 ۔ "ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ الله ﻓﺎﺭِﻍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ"
🔮11 ۔ ﺍﺗﻨﯽ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺧُﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺰﺍ ﮐﻢ ﭘﮍﺟﺎﺋﮯ
🔮12 ۔ ﺧُﺪﺍ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﻝ ﺑﮍﯼ ﻓﺮﺻﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﯿﮟ
🔮13 کسی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﺎﺭ ! ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ جوان ملا '': ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺭ ! الله ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
🔮14 ۔ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ حضرت محمد ﺻﻠَّﯽ الله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍٰﻟﮧٖ ﻭﺳﻠَّﻢ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﺗﻮﮐﺎﻓﺮ ﮨﮯ۔
🔮15 ۔ "ﺩﻧﯿﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺋﯽ؟ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﺎﮨﮯ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﻨﺎﺋﯽ؟" ‏( یہ گاناکفر ہے ‏)
🔮16 ۔ "ﺣﺴﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﮩﺎﻧﮯ ۔ ﺧﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﮯ" ‏( گانا کفر ‏)
🔮17 ۔ "ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﭖ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻗﺴﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ' ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﭖ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ" ‏( ﮔﺎﻧﺎ کفر ‏) ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﮔﺎﻧﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎ ﻥ ﺍﮐﺜﺮ ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
🔮18 ۔ﻧَﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ '': ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﮔُﻨﺎﮦ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺑﺨْﺸﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧَﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔
🔮19 ۔ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﻧﺼْﺮﻣِّﻦَ ﺍﻟﻠﮧِ ﻭَ ﭨِّﮭﯿﮏ ۔ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﺣﮑﻢ ﮐﻔﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﯾﺖ ﮐﻮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ۔
🔮20 ۔ ﺭَﺣﻤٰﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺭَﺣﻤٰﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
🔮21 ۔ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔۔۔۔ﻭﻏﯿﺮہ وغیرہ کفر ہے ۔ حضورﷺ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩِﻣُﻌﻈَّﻢ ﮨﮯ '': ﺍﻥ ﻓِﺘﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﯿﮏ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﺮﻭ ! ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣِﺼّﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩَﻣﯽ ﺻُﺒﺢ ﮐﻮ ﻣﻮﻣِﻦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﺎﻓِﺮ ﮨﻮﮔﺎﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻮﻣِﻦ ﮨﻮﮔﺎﺍﻭﺭ ﺻُﺒﺢ ﮐﻮ ﮐﺎﻓِﺮ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ﻧﯿﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﻮ ﺩُﻧﯿﺎﻭﯼ ﺳﺎﺯﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ '' ‏( ﻣُﺴﻠِﻢ ﺣﺪﯾﺚ 118 ﺹ 73 ‏)
‏( ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﻣﯿﻦ ‏)
*ﺍﺱ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﺷﺌﯿﺮ ﮐﺮﯾﮟ*

Thursday, 9 January 2020

January 09, 2020

القرآن - سورۃ نمبر 13 الرعد - آیت نمبر 33

االقرآن - سورۃ نمبر 13 الرعد - آیت نمبر 33

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ‌ۚ وَجَعَلُوۡالِلّٰهِ شُرَكَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ‌ؕ اَمۡ تُنَـبِّـئُــوْنَهٗ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِؕ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ۞

لفظی ترجمہ:
 اَفَمَنْ : پس کیا جو   |  هُوَ : وہ   |  قَآئِمٌ: نگران   |  عَلٰي : پر   |  كُلِّ نَفْسٍ : ہر شخص   |  بِمَا كَسَبَتْ : جو اس نے کمایا (اعمال)  |  وَجَعَلُوْا : اور انہوں نے بنا لیے   |  لِلّٰهِ : اللہ کے   |  شُرَكَآءَ : شریک (جمع)  |  قُلْ : آپ کہ دیں   |  سَمُّوْهُمْ : ان کے نام لو   |  اَمْ : یا   |  تُنَبِّئُوْنَهٗ : تم اسے بتلاتے ہو   |  بِمَا : وہ جو   |  لَا يَعْلَمُ : اس کے علم میں نہیں   |  فِي الْاَرْضِ : زمین میں   |  اَمْ : یا   |  بِظَاهِرٍ : محض ظاہری   |  مِّنَ : سے   |  الْقَوْلِ : بات   |  بَلْ : بلکہ   |  زُيِّنَ : خوشنما بنا دئیے گئے   |  لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا   |  مَكْرُهُمْ : ان کی چال   |  وَصُدُّوْا : اور وہ روک دئیے گئے   |  عَنِ : سے   |  السَّبِيْلِ : راہ   |  ۭوَمَنْ : اور جو۔ جس   |  يُّضْلِلِ : گمراہ کرے   |  اللّٰهُ : اللہ   |  فَمَا : تو نہیں   |  لَهٗ : اس کے لیے   |  مِنْ هَادٍ : کوئی ہدایت دینے والا

ترجمہ:
بھلا بتاؤ کہ ایک طرف وہ ذات ہے جو ہر ہر شخص کے ہر ہر کام کی نگرانی کر رہی ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک مانے ہوئے ہیں ؟  کہو کہ : ذرا ان (خدا کے شریکوں) کے نام تو بتاؤ (اگر کوئی نام لو گے) تو کیا اللہ کو کسی ایسے وجود کی خبر دو گے جس کا دنیا بھر میں اللہ کو بھی پتہ نہیں ہے ؟ یا خالی زبان سے ایسے نام لے لو گے جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ؟  حقیقت تو یہ ہے کہ ان کافروں کو اپنی مکارانہ باتیں بڑی خوبصورت لگتی ہیں اور (اس طرح) ان کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اور جسے اللہ گمراہی میں پڑا رہنے دے، اسے کوئی راہ پر لانے والا میسر نہیں آسکتا۔33

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ‌ۚ وَجَعَلُوۡالِلّٰهِ شُرَكَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ‌ؕ اَمۡ تُنَـبِّـئُــوْنَهٗ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِؕ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ۞

لفظی ترجمہ:
 اَفَمَنْ : پس کیا جو   |  هُوَ : وہ   |  قَآئِمٌ: نگران   |  عَلٰي : پر   |  كُلِّ نَفْسٍ : ہر شخص   |  بِمَا كَسَبَتْ : جو اس نے کمایا (اعمال)  |  وَجَعَلُوْا : اور انہوں نے بنا لیے   |  لِلّٰهِ : اللہ کے   |  شُرَكَآءَ : شریک (جمع)  |  قُلْ : آپ کہ دیں   |  سَمُّوْهُمْ : ان کے نام لو   |  اَمْ : یا   |  تُنَبِّئُوْنَهٗ : تم اسے بتلاتے ہو   |  بِمَا : وہ جو   |  لَا يَعْلَمُ : اس کے علم میں نہیں   |  فِي الْاَرْضِ : زمین میں   |  اَمْ : یا   |  بِظَاهِرٍ : محض ظاہری   |  مِّنَ : سے   |  الْقَوْلِ : بات   |  بَلْ : بلکہ   |  زُيِّنَ : خوشنما بنا دئیے گئے   |  لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا   |  مَكْرُهُمْ : ان کی چال   |  وَصُدُّوْا : اور وہ روک دئیے گئے   |  عَنِ : سے   |  السَّبِيْلِ : راہ   |  ۭوَمَنْ : اور جو۔ جس   |  يُّضْلِلِ : گمراہ کرے   |  اللّٰهُ : اللہ   |  فَمَا : تو نہیں   |  لَهٗ : اس کے لیے   |  مِنْ هَادٍ : کوئی ہدایت دینے والا

ترجمہ:
بھلا بتاؤ کہ ایک طرف وہ ذات ہے جو ہر ہر شخص کے ہر ہر کام کی نگرانی کر رہی ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک مانے ہوئے ہیں ؟  کہو کہ : ذرا ان (خدا کے شریکوں) کے نام تو بتاؤ (اگر کوئی نام لو گے) تو کیا اللہ کو کسی ایسے وجود کی خبر دو گے جس کا دنیا بھر میں اللہ کو بھی پتہ نہیں ہے ؟ یا خالی زبان سے ایسے نام لے لو گے جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ؟  حقیقت تو یہ ہے کہ ان کافروں کو اپنی مکارانہ باتیں بڑی خوبصورت لگتی ہیں اور (اس طرح) ان کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اور جسے اللہ گمراہی میں پڑا رہنے دے، اسے کوئی راہ پر لانے والا میسر نہیں آسکتا۔

Wednesday, 8 January 2020

January 08, 2020

5 علمی سوالات

.*5 علمی سوال / جواب :*

*سوال1 :* غسل میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* 3 فرض ہیں۔

1. کلی کرنا
2. ناک میں پانی چڑھانا
3. تمام ظاہری جسم پر پانی بہانا۔
*سوال 2 :* وضوء میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* 4 فرض ہیں۔

1. مکمل چہرہ دھونا
2. دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔
3. چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
4۔ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
 *سوال 3 :* نماز میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* نماز میں 6 شرائط اور 7 فرائض ہیں۔

*6 شرائط*

1. طھارت،
2. کپڑے کا پاک ہونا،
3۔ ستر کا چھپا ہونا،
4۔ قبلہ رخ ہونا،
5۔ نیت باندھنا،
6۔ وقت،

*7 فرائض*

1. تکبیر تحریمہ
2. قیام
3. قرآت
4. رکوع
5. دونوں سجدے
6۔ قعدہ اخیرہ (آخری التحیات کے لئے بیٹھنا).
7۔ خروج بِصُنعِہٖ (نماز سے باہر آنے کا عمل کرنا، جیسے سلام پھیرنا)۔
*سوال 4 :* ایک دن میں کتنی نمازیں فرض ہیں؟

*جواب :* 5 نمازیں فرض ہیں اور ایک نماز واجب ہے۔

*5 نمازیں*

1. فجر
2. ظہر
3۔ عصر
4۔ مغرب
5۔ عشاء

*ایک واجب نماز*

1. وتر
 *سوال 5 :* کیا وتر ایک الگ نماز ہے؟

*جواب :* وتر واجب نماز ہے۔ اور یہ عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ اور اس کی نیت میں عشاء کی نہیں بلکہ وتر کی نیت کریں گے-

Tuesday, 7 January 2020

January 07, 2020

پاکستان کے شہروں کی دلچسپ معلومات

╭┄┅═══❁═══┅┄╮
*پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے   پڑے، دلچسپ اور حیران کن معلومات*
    ╰┄┅═══❁═══┅┄╯

ُ╔════════════╗

    *اســـلام آبــاد:-*
1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *راولـپـنـــڈی:-*
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *کــــراچــــی:-*
تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *لاھــــــــور:-*
ایک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور
ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

   *حــــــیدر آبــاد:-*
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *پـشــــاور:-*
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *کــــوئٹــــہ:-*
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

   *ٹــــوبہ ٹیک سنــــگھ:-*
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــرگــــودھـا:-*
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *بہــــاولپــــور:-*
نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور  کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ملــــتان:-*
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *فیصــــل آبــاد:-*
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *رحیــــم یار خــــاں:-*
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
*صادق آباد:-*
بہاول پور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب صادق خان  عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔ 

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *عبدالحــــکیم:-*
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔ یہ قصبہ دریائے راوی کے کنارے آباد ہے.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــاہیوال:-*
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــیالکوٹ:-*
2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *گوجــــرانوالہ:-*
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *شیــــخوپـورہ:-*
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ھــــــــڑپہ:-*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ٹیکســــلا:-*
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *بہاولــــنگـر:-*
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *مظـفــر گــــڑھ:-*
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

ُ╚════════════╝ ُ╔════════════╗

    *مــــیانـوالـی:-*
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ُ╚════════════╝ ُ╔════════════╗

   *ڈیرہ غــازی خــان:-*
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *جھــــنگ:-*
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیالu“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔
کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے..لیکن ہسٹری سے یہ ہی پتہ  چلا ہے...╭┄┅═══❁═══┅┄╮
*پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے   پڑے، دلچسپ اور حیران کن معلومات*
    ╰┄┅═══❁═══┅┄╯

ُ╔════════════╗

    *اســـلام آبــاد:-*
1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *راولـپـنـــڈی:-*
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *کــــراچــــی:-*
تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *لاھــــــــور:-*
ایک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور
ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

   *حــــــیدر آبــاد:-*
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *پـشــــاور:-*
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *کــــوئٹــــہ:-*
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

   *ٹــــوبہ ٹیک سنــــگھ:-*
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــرگــــودھـا:-*
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *بہــــاولپــــور:-*
نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور  کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ملــــتان:-*
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *فیصــــل آبــاد:-*
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *رحیــــم یار خــــاں:-*
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
*صادق آباد:-*
بہاول پور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب صادق خان  عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔ 

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *عبدالحــــکیم:-*
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔ یہ قصبہ دریائے راوی کے کنارے آباد ہے.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــاہیوال:-*
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ســــیالکوٹ:-*
2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *گوجــــرانوالہ:-*
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *شیــــخوپـورہ:-*
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ھــــــــڑپہ:-*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *ٹیکســــلا:-*
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا.

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *بہاولــــنگـر:-*
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *مظـفــر گــــڑھ:-*
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

ُ╚════════════╝ ُ╔════════════╗

    *مــــیانـوالـی:-*
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ُ╚════════════╝ ُ╔════════════╗

   *ڈیرہ غــازی خــان:-*
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

ُ╚════════════╝
ُ╔════════════╗

    *جھــــنگ:-*
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیالu“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔
کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے..لیکن ہسٹری سے یہ ہی پتہ  چلا ہے...